جرمنی کے ماہرِ لسانیات ہنزورنرویسلرسے ایک مصاحبہ

جرمنی کے ماہرِ لسانیات ہنزورنرویسلرسے ایک مصاحبہ

سوال: آپ کو اردو سے دلچسپی کیسے پیدا ہوئی؟
جواب: جب میں پندرہ سال کا تھا اس وقت میرے والد کا انتقال ہو گیا۔ اس کے کچھ عرصے کے بعد میں نے ایک جرنل میں، ایک ناول پڑھا جو ہامن ہسی کا ناول ہے سدھارتھ کے بارے میں، جس سے میرے اندر یہ جاننے کاشوق پیدا ہوا کہ یورپ کے باہر کچھ لوگ ایسے ہوں گے جن کا اپنا ادب ہوگا۔ اپنی زبان ہوگی اور اپنی ثقافت ہوگی۔ جس میں میری دلچسپی ہوسکتی ہے۔پھر مجھے علم ہوا کہ انڈولوجی کے نام سے جرمنی میں ایک شعبہ ہے جہاں ایسی زبانیں سیکھی جا سکتی ہیں پھرجب پڑھائی کا وقت آیا تو میں نے بہت ضد کرکے اس شعبے میں داخلہ لے لیا۔ میری اماں اس کے خلاف تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اردو، ہندی اور سنسکرت پڑھ کر تمھیں نوکری کہاں ملے گی؟۔ اکثر میرے اپنے دل میں بھی یہ خیال آ یا کہ کیامیں نے درست شعبہ منتخب کیاہے؟ کیا پڑھائی مکمل کر کہ مجھے آسانی سے اچھا روزگار میسر آ جائے گا؟ تب میری اماں نے کہا کہ اب تو تم یہ شعبہ منتخب کرچکے ہو۔ تمہیں ایم۔اے تو کم ازکم کرنا ہی ہوگا۔ پھر ایم۔اے کے بعد مجھے پی ایچ۔ڈی کرنے کا موقع ملا۔ پھر آگے بڑھنے کے راستے ہموار ہوتے چلے گئے اور اب میں ایک بہت اچھے مقام پر پہنچ چکا ہوں۔ اردو،سنسکرت اور ہندی منتخب کرنے،سیکھنے اور انڈولوجی پڑھنے میں درحقیقت کوئی منصوبہ بندی نہیں تھی یہ سب خود بخود ہوتا چلاگیا۔

سوال: ۔آپ ہندوستان کی کئی زبانوں پر مہارت رکھتے ہیں اور انڈولوجی پڑھ چکے ہیں تو آپ کو ہندوستانی زبانوں میں سب سے اچھی اور سمجھ میں آنے والی زبان کون سی لگی؟

جواب: میں ہر زبان کو ایک خزانہ سمجھتا ہوں۔ ہر زبان میں تاریخی تجربات، ادب اور ایک خزانہ موجود ہے۔لوگوں کی سوچ کو سمجھنے کے لیے صرف انگریزی زبان کافی نہیں ہے۔ بلکہ کسی علاقے کی ثقافت،وہا ں کا بودوباش اور ادب فکر اور فلسفۂ زندگی کو سمجھنے کے لیے وہاں کی زبان سیکھنا لازمی ہے۔ زبان جانے بغیر آپ وہاں کی معاشرت کی روح اور ادب کو نہیں سمجھ سکتے۔ہندی اور اردو میں مجھے یہ بات پسند ہے کہ ہندی اور اردو والے جدیدیت اپنا نے کی کوشش کرتے ہیں۔میں سعید احمد خان کی اس بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ:”اگر جنوبی ایشیا جدیدیت تک پہنچنا چاہتا ہے تو وہ اردو کے ساتھ یا ادھر کی زبان کے ساتھ ہونا چاہیے۔ انگریزی تو ہمیشہ دور رہی ہے لوگوں سے”

سوال: ہندوستان اور پاکستان دونوں ممالک میں آپ کا آنا جانا رہا تو دونوں ملکوں میں تہذیب و ثقافت اور زبان حوالے سے آپ نے کیا فرق محسوس کیا؟
جواب: ان دونوں ملکوں میں مہمان نوازی بہت ہے خاص طور پر میرے جیسے ہندی اردو بولنے والے کے لیے ۔دونوں ملکوں میں لوگوں کی عادتیں اوربولنے کے طریقہ تقریباً ایک جیسا ہے البتہ آزادی کے بعد کچھ تبدیلیاں آگئی ہیں۔خاص طور پر زبانی حوالے سے جو محاورے پاکستان میں بولے جاتے ہیں وہ ہندوستان میں کچھ الگ بن جاتے ہیں۔ مثلاً ہندوستان میں ابھی تک ”خدا حافظ ”کہا جاتا ہے۔ کم لوگ ”اللہ حافظ” کہتے ہیں، جب کہ پاکستان میں لوگ” اللہ حافظ” کہتے ہیں۔ ایسی دو تین چیزیں جو میں محسوس کرتا ہوں۔ ہندوستانی اردو اور پاکستانی اردو میں کچھ فرق محسوس ہوتا ہے۔

سوال: جرمنی میں اردو زبان کے حوالے سے کیا کام ہورہا ہے؟
جواب: جرمنی میں اردو کے حوالے سے کافی کام ہورہا ہے۔ ہائیڈل برگ کے ساؤتھ ایشیا انسٹیٹیوٹ میں ایک بہت اچھی پروفیسر ہیں کرسٹینااسٹریلتھ وہ اب ریٹائرڈ ہونے والی ہے یا اگلے سال ریٹائر ڈہوجائیں گی۔ اس کے بعد اردو کے حوالے سے کیا ہوگا اور کیا نہیں ہوگا اس سوال کا جواب نہیں دیا جا سکتا۔ کیوں کہ نئے لوگوں میں کچھ لوگ اردو پڑھتے مگر طالب علموں کی تعداد ہندی سے کم ہے۔ آپ اس بات کا برا نہیں مانیے گا (مسکراتے ہوئے)اردو کم پڑھنے یا نہ پڑھنے میں بنیادی مسئلہ پاکستان کا امیج پرابلم ہے۔
لوگ ہندی کے ساتھ جوڑ دیتے ہیں ہولی،رنگ پھینکنا، بولی وڈسینیما، حالاں کہ بولی وڈ کی جو زبان ہے وہ اردو سے زیادہ نزدیک ہے۔ لوگ سوچتے ہیں کہ ہندوستان میں ہندی بولی جاتی ہے اور ہندوستان جانے میں وہ تکلیف نہیں ہے دہشت گردی کم ہے۔ توجرمنی کے باشندوں کے ذہن میں بس یہ بات بیٹھ گئی ہے۔ میرے جیسے لوگ جرمنی کے باشندوں کو سمجھانیکی کوشش کرتے ہیں کہ ہندوستان کے ساتھ ساتھ پاکستان باشندوں سے بھی ملنا چاہیے۔ اور پاکستان کو بھی دیکھنا چاہیے۔پاکستان میں بھی بہت کچھ ہو رہا ہے لوگ لوگ لکھتے ہیں لوگ پڑھتے ہیں۔ سویڈن میں صرف میں ہی اردو اور ہندی پڑھاتا ہوں، اس وقت اُپسالاہونیورسٹی سویڈن میں اردو اور ہندی پڑھانے والا کوئی اور استاد موجود نہیں ہے۔جہاں تک میرے علم میں ہے اس وقت کسی دوسری یونیورسٹی میں بھی اردو اور ہندی پڑھانے والا کوئی استادموجود نہیں۔

سوال: نئی جینریشن، نئی پیڑھی یا نئی نسل میں ہندی کا رجحان کتنے فیصد ہے؟
جواب: جرمنی میں چھٹیوں میں لوگ ہندوستان جاتے ہیں، بولی وڈسینیما دیکھتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ یہ ہندی ہے۔ ہولی،رنگ پھینکنا ان کو پسند ہے۔

سوال: یہ تو ہندوستان کی ثقافت ہوئی۔ زبان کے حوالے سے کیا صورتحال ہے؟
جواب: جرمنی کے باشندے ہندوستان کی ثقافت کو پسند کرتے ہیں۔ اور جب زبان سیکھنے آتے ہیں اور انھیں ہندوستان کی زبان مشکل محسوس ہوتی ہے تو کچھ وقت کے بعد سیکھنا چھوڑ دیتے ہیں، لوگ محنت کرنے کے لے تیار نہیں۔ میں نئے آنے والوں کو پہلے ہی بتا دیتا ہوں کہ اردو ہندی پڑھنے آجاؤ، خوش آمدید مگر اردو اور ہندی پڑھ کر تمھیں نوکری ملنے میں کچھ دقت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ البتہ پچھلے چند سالوں میں اردو اور ہندی سیکھنے والوں کے لیے نوکری ملنے میں آسانیاں پیداہوئی ہیں۔یا تو میڈیا میں، یا ٹورسٹ مارکیٹ میں، یا کسی دوسری جگہ پر، ایسا نہیں ہے کہ ہندی اردو میں کوئی سیدھی سی نوکری نہیں ہے، ویسے چین کا معاملہ مختلف ہے۔ہمارے یہاں زیادہ تر طالب علم چینی زبان سیکھنے آتے ہیں، فارسی بھی پڑھائی جاتی ہے۔ عربی بھی ہے۔ فارسی اور عربی وہ لوگ سیکھتے ہیں، جو اپنی پہچان کی کھوج میں ہمارے یہاں آتے ہیں۔ چینی زبان سیکھنے سے فائدہ ہے، اس کو سیکھ کر نوکری آسانی سے مل جاتی ہے، کہیں نہ کہیں۔ چین ایک جدید ملک ہے، مگر وہاں انگریزی نہیں چلتی۔ پاکستان اور ہندوستان میں لوگ جدیدیت انگریزی کے ساتھ جوڑدیتے ہیں۔ یہ ہی ایک نقصان ہے اردو اور ہندی کے لیے۔

سوال: آپ نے اردو زبان میں کوئی کتاب لکھی؟
جواب: نہیں میں نے اردو زبان میں کوئی کتاب تحریر نہیں کی البتہ دو تین آرٹیکل لکھ چکا ہوں۔ اردو میں لکھنا میرے لیے آسان نہیں۔ میری زبان مادر جرمنی زبان ہے، جس میں، میں سپنا دیکھتا ہوں۔جو عبور مجھے جرمن زبان پرہے وہ نہ سویڈش پر ہے اور نہ انگریزی پر ہے۔ میں سویڈش میں بھی تھوڑی بہت لکھتا ہوں مگر غلطیاں ضرور نکلتی ہیں۔ اردو میری زبانِ مادر نہیں ہے اس لیے غلطیوں کا امکان رہتا ہے۔

سوال: اردو میں آپ کیا شوق سے پڑھتے ہیں، شاعری یا نثر؟
جواب: میں زیادہ تر افسانے پڑھتا ہوں، شاعری بھی اکثر پڑھتا ہوں مگر میرا افسانہ پڑھنا میرا شوق ہے۔

سوال: آپ کا پسندیدہ افسانہ کون سا ہے؟
جواب: منٹو کا ٹوبہ ٹیک سنگ بہت پسند ہے۔ اور پرانے زمانے کے پریم چند کے افسانے، اور آج کل محمد عباس ایک افسانہ نگار ہیں جن کے افسانے مجھے بہت پسند ہیں۔ نئے لوگ بھی لکھ رہے ہیں، یہاں لوگ یہ شکایت کرتے ہیں کہ اردو کا معیار پست ہورہا ہے لیکن ایسا نہیں ہے، نئے لوگ آتے ہیں اور اچھا لکھتے بھی ہیں اور جو اچھا لکھتا ہے وہ اپنی جگہ بنالیتا ہے۔ اور ایک ایسا وقت بھی اآتا ہے کہ اچھا لکھنے والوں کی تحریروں کا ترجمہ بھی کیا جاتا ہے۔ہو سکتا ہے کہ اس میں پچاس سال کا عرصہ لگے یا ایک سو سال لگ جائیں۔

سوال: کیا آپ نے اپنی مادری زبان جرمن میں کبھی کوئی افسانہ کہانی یا کچھ اور لکھا؟
جواب: جب میں بیس تیس برس کے درمیان تھا تو کچھ لکھتا تھا، مگر اب وہ وقت آگیا ہے کہ میں لکھنے کے بارے میں سوچنے لگا ہوں۔
ہمارے یہاں لوگ اتنی تیز رفتاری سے اور کم عمری میں نہیں لکھتے جس طرح پاکستان اور ہندوستان میں لوگ بہت تیز رفتاری سے لکھنا شروع کردیتے ہیں۔ یہاں کے لوگوں کو لکھنے کی عادت ہے جو ہمارے یہاں کے لوگوں کو نہیں۔ ہمارے یہاں کے لوگ لکھنے کے معاملے میں تھوڑے شرمیلے ہوتے ہیں اور وہ یہ سوچتے ہیں کہ ہم کمزور لکھتے ہیں۔ میں بھی اپنے آپ کو لکھنے کے حوالے سے کمزور سمجھتا ہوں۔ میں بظاہر شرمیلا نظر نہیں آتا مگر میں شرمیلاہوں۔

سوال: پاکستان کی زبانوں میں آپ کو کون سی زبان زیادہ پسند ہے؟ آپ پنجابی کے لہجے بھی بتا رہے تھے اور دیگر زبانوں کے بھی، تو ہم جاننا چاہتے ہیں کہ کون سی زبان آپ کی پسندیدہ ہے؟
جواب: اس سوال کا جواب خاصا مشکل ہے۔ کوئی ایسی زبان نہیں کہ جو سب سے اچھی ہویا سب سے خراب ہو۔ اردو مجھے کچھ حد تک آتی ہے میری پنجابی اس سے کمزور ہے میں سندھی سیکھنے کے بارے میں سوچتا ہوں۔ یہاں آکر کچھ وقت لگاکر سندھی سیکھنے کا شوق ہے۔ کیوں کہ تھوڑی سی گجراتی بھی سیکھی ہے، گجراتی اور ہندی کے درمیان کچھ جھگڑا ہوا ہے۔

سوال: آپ کتنے زبانوں پر عبور رکھتے ہیں؟
جواب: ایک ہی زبان مجھے صحیح طریقے سے آتی ہے جو میری مادری زبان جرمن ہے۔ اس کے علاوہ مجھے ٹھیک سے کوئی زبان نہیں آتی۔ تھوڑی بہت میں ہندی،اردو،فرینچ،لاطینی سمجھ لیتا ہوں۔
اس کے ساتھ ہی ہم نے اپنی گفتگو کا اختتام کیا۔
نعیم الحق پوچھتے ہیں کہ گالی دینا زیادہ بہتر ہے یا تھپڑ مارنا

نعیم الحق پوچھتے ہیں کہ گالی دینا زیادہ بہتر ہے یا تھپڑ مارنا


گزشتہ دنوں ایک مذاکرے کے دوران عمران خان صاحب کے چیف آف سٹاف جناب نعیم الحق کا سامنا مسٹر دانیال عزیز سے ہو گیا۔ دانیال عزیز نے چیف آف سٹاف نعیم الحق کو چور کہہ دیا جس پر چیف صاحب نے ان کو منہ توڑ جواب دے دیا۔ دانیال عزیز ہکے بکے رہ گئے۔ چیف آف سٹاف نے بتایا ہے کہ عمران خان نے ان کے اس منہ توڑ جواب کی خوب تعریف کی۔

ایسا نہیں ہے کہ کسی وقتی ابال میں چیف صاحب نے یہ تھپڑ کھینچ مارا تھا۔ انہوں نے خود بتایا ہے کہ اس شخص نے عمران خان کی ذات پر حملے کیے اور کرتا رہا۔ غالباً اپنی فطری بردباری کی وجہ سے چیف صاحب نے یہ حملے برداشت کیے۔ ممکن ہے کہ وہ کچھ کنفیوز ہی نہ ہو گئے ہوں کیوں کہ دانیال عزیز جس تیقین سے بات کرتے ہیں تو اچھے بھلے لوگ ان کو بسا اوقات سچا بھی سمجھ سکتے ہیں۔ بہرحال چیف صاحب نے دانیال عزیز کو اپنے چیئرمین کی ذات پر کیچڑ اچھالتے دیکھا اور برداشت کرتے رہے۔ مگر پھر حد ہی ہو گئی۔

نعیم الحق نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ ”اس شخص نے عمران خان کی ذات پر حملے کیے اور کرتا رہا، جھوٹ بولتا رہا اور پھر جب اس نے مجھے چور کہا، وہ ایک قدرتی عمل تھا جس پر میں نے اسے تھپڑ مارا“۔ یعنی جب تک دانیال عزیز جھوٹ بولتے رہے اس وقت تک چیف صاحب نے ان کو برداشت کیا کہ جھوٹوں کے منہ کیا لگنا مگر پھر دانیال عزیز نے جھوٹ کی بجائے نہ جانے کیا بولا کہ چیف صاحب کو ایک قدرتی عمل کے زیر اثر دانیال عزیز کو وہیں ایک الٹے ہاتھ کی لگانی پڑی۔ یہ سٹروک فنی لحاظ سے ریورس سویپ کی ایک بہترین ایگزیکیوشن تھا۔ غالباً اسی کی کرکٹ سینس میں عمران خان صاحب نے خوب تعریف کی ہو گی اور بدخواہوں نے یہ خبر چلا دی کہ خان صاحب نے دنگے فساد کی تعریف کی ہے۔



چیف صاحب میڈیا کے رویے سے شاکی ہیں۔ وہ ایک اہم سوال اٹھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ”جب لوگ گالیاں دیتے ہیں برا بھلا کہتے ہیں اس پر تو اکثر میڈیا والے تنقید نہیں کرتے اگر ایک ہاتھ پڑ گیا جو صحیح پڑا تو اس پر میڈیا والے پریشان ہو جاتے ہیں۔ تو اس میں مقابلہ کرنا ضروری ہوتا ہے کہ گالی دینا زیادہ بہتر ہے یا تھپڑ مارنا زیادہ بہتر ہے“۔

ٹاک شو میں اکثر یہی ہوتا ہے کہ مذاکرین ایک دوسرے کو مقابلے میں خوب برا بھلا کہہ رہے ہوتے ہیں۔ چیف صاحب نے بتایا ہے کہ ایسی بری بری باتیں کرنے سے بہتر ہے کہ اگلے کو تھپڑ مار دیا جائے۔ کیا ہی خوب ہو کہ میڈیا کے کرتا دھرتا ان کی بات پر غور کریں اور مہمانوں سے بات چیت کروانے کی بجائے ان کا یسو پنجو کا میچ کرا دیا جائے۔ ایک طرف مسلم لیگ ن کی ٹیم ہو گی جس میں ان کے چیمپئین عابد شیر علی، رانا ثنا اللہ، خواجہ آصف اور دانیال عزیز یسو پنجو ہار کبوتر ڈولی کر رہے ہوں گے اور دوسری طرف تحریک انصاف کی ٹیم چیف آف سٹاف نعیم الحق کی کپتانی میں فواد چوہدری، مبینہ ڈاکٹر عامر لیاقت حسین اور شیریں مزاری کو اتارے گی۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ پروگرام ریٹنگ کے نئے ریکارڈ بنائے گا۔

بہرحال یہ زمانہ اچھا نہیں ہے۔ یہاں لوگ گالیوں کو تھپڑوں سے بہتر جانتے ہیں۔ اسی لئے چیف صاحب پر اتنی زیادہ لے دے ہوئی کہ ان کو یہ کہنے پر مجبور ہونا پڑا کہ عمران خان نے دانیال عزیز کو تھپڑ مارنے پر تعریف نہیں کی بلکہ عمران خان نے دانیال عزیز کی جھوٹی اور بے ہودہ گفتگو کا جواب دینے پر مبارک باد دی۔ اب اگر چیف صاحب اپنی بے مثال چرب زبانی کے زور پر عابد شیر علی کو بھی قائل کر لیں کہ گالی دینے سے تھپڑ مارنا بہتر ہے تو پھر ٹاک شوز دیکھنے والے ہوں گے۔
 
Copyright © 2015. Urdu columns
Blogger Templates